ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپورٹس / باسیج‘ ملیشیا پر ایرانی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام

باسیج‘ ملیشیا پر ایرانی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام

Sat, 13 May 2017 11:52:35    S.O. News Service

تہران،12مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایرانی صدارتی امیدواروں اور سابق صدور نے موبلائیزیشن فورس ’باسیج ملیشیا‘ پر من پسند انتخابی نتائج کے حصول کے لیے انتخابات پر اثر انداز ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں جاری صدارتی انتخابی مہم میں شامل سیاسی رہ نماؤں نے الزام عاید کیا ہے کہ باسیج ملیشیا نے سنہ 2005ء اور 2009ء کے صدارتی انتخابات میں من پسند نتائج کے حصول کے لیے مداخلت کی تھی۔باسیج ملیشیا کی تشکیل سنہ 1979ء میں آیت اللہعلی خمینی کے حکم پر عمل میں لائی گئی اور سنہ 1980ء4 میں اسے ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے باقاعدہ طور پر منظوری دی گئی۔
اس وقت باسیج ملیشیا کا اندرون ملک وسیع نیٹ ورک ہے۔ اس کے دفاتر، اسکولوں، جامعات، حکومتی مراکز، اسپتالوں، مساجد، خواتین کے اداروں میں بھی موجود ہیں۔ باسیج ملیشیا کے نیٹ ورک میں اساتذہ، طلبہ، انجینئر، کالجوں کی انتظامیہ، مذہبی رہ نما شامل ہیں۔ایرانی رجیم باسیج ملیشیا کو اپنے دفاع کے لیے ایک آلہ کار کے طور پراستعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ ایرانی اشرافیہ کے ہاتھ میں ایک ایسی تلوار ہے جسے وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔ایران میں حکومت کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاجی مظاہروں اور ان میں شریک مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں باسیج ملیشیا کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔سنہ 2005ء اور 2009ء کے صدارتی انتخابات میں سول کپڑوں میں ملبوس باسیج ملیشیا کے ہزاروں عناصر نے پرامن مظاہرین کو کچلنے میں پولیس کی معاونت کی۔سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات باسیج ملیشیا پرعاید کیے گئے۔ سنہ 2009ء میں باسیج ملیشیا کی قیادت مہدی طائب کے پاس تھی جو اس وقت ایرانی انٹیلی جنس چیف ہیں۔


Share: